how do eat - Roshan Worlds

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Monday, April 8, 2019

how do eat







کھانے کے آداب اور سنتیں

عن جابررضی اﷲعنہ قال قال رسول اﷲاإذادخل الرجل بیتہ فذکراﷲعند دخولہ وعندطعامہ قال الشیطان لامبیت لکم ولاعشاء وإذادخل فلم یذکراﷲعنددخولہ قال الشیطان أدرکتم المبیت وإذالم یذکراﷲعندطعامہ قال أدرکتم المبیت والعشائ…حضرت جابررضی اﷲعنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲا نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اﷲ کا نام لے کر( یعنی بسم اﷲ یاالسلام علیکم کہہ کر) گھر میں داخل ہوتاہے اور کھانے سے پہلے بسم اﷲپڑھتاہے تو شیطان اپنے بھائیوں سے کہتاہے ’’لامبیت لکم ولاعشائ‘‘تمہارے لئے اس گھر کے دروازے بند ہوچکے ہیں اور کھانے میں بھی تم شریک نہیں ہوسکتے (یعنی نہ یہاں رہ سکتے ہو نہ کھا سکتے ہو) اور اگر کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کانام لینا( بسم اﷲوغیرہ کہنا) بھول جائے تو شیطان اپنے بھائیوں سے کہتاہے کہ تم نے رہنے کے لئے گھر پالیا اورجب بندہ کھانے سے پہلے بسم ا ﷲ کہنا بھول گیا تو شیطان کہتاہے ادرکتم المبیت والعشائیعنی گھر میں رہنے کے ساتھ ساتھ کھانے میں بھی شریک ہوسکتے ہو۔
اس حدیث شریف میں یہ ارشاد فرمایاگیاکہ جس چیز کی ابتداء ا ﷲ کے نام سے ہو تو شیطان اور اس کے حواریین کا اس میں عمل دخل نہیں ہوسکتا جیسے گھر ۔یہاںصرف گھر میں داخل ہونے اور کھانے کے متعلق ارشاد فرمایاگیاہے۔
کھانا کھانے سے پہلے بسم اﷲ پڑھنا سنت ہے اور یہ گویا اس بات کا اقرار کرناہے کہ زمین سے پیداہونے سے لے کر پک کر تیار ہونے تک آسمان، سیاروں، ہواؤں ، فضاؤں اورمخلوقات کی طاقتیں پھر لاکھوں انسانوں کی محنت صَرف ہوکریہ کھاناتیار ہواہے اس کھانے کا حاصل کر نا میرے بس میں نہ تھا ۔اﷲ ہی کی ذات ہے جس نے ان تمام مراحل سے گزار کر یہ کھانا مجھے عطا کیاہے۔لہٰذا رزق کا عطا ہونا یہ محض اﷲ ہی کی طرف سے ممکن ہواہے ۔ 

رزق کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ پر ہے

قرآن مجید میں ارشادہے:اﷲیبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدرلہ إن اﷲ بکل شیء علیم…اللہ پھیلاتاہے روزی جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں سے اور ناپ کر دیتاجس کو چاہے ( یہ نہیں کہ بالکل نہ دے)بے شک اﷲ ہر چیز سے خبردار ہے  ( اس کو خبر ہے کہ کس کو کتنا دیناہے)۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہے :ومامن دابۃ فی الأرض الاعلی اﷲرزقھاویعلم مستقرھاومستودعھاکل فی کتاب مبین…اور کوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگر اﷲ پر ہے اس کی روزی اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتاہے اور جہاں سونپاجاتاہے سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں۔
دابہ ہر اس جانور کوکہتے ہیں جو زمین پر چلے ۔ پرندے بھی اسی جانور میں داخل ہیں کیونکہ ان کا آشیانہ بھی کہیں زمین پر ہی ہوتاہے ۔ دریائی جانوروں کا بھی تعلق زمین سے ہونا کچھ مخفی نہیں۔ ان سب جانداروں کے رزق کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے کر ایسے الفاظ سے اس کو بیان کیاہے جیسے کوئی فریضہ کسی کے ذمہ ہوچنانچہ ارشاد فرمایا:علی اﷲ رزقھایعنی اﷲ کے ذمہ ہے اس کا رزق۔ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری اﷲ تعالیٰ پر ڈالنے والی کوئی طاقت نہیں بجز اس کے کہ اسی نے اپنے فضل سے یہ وعدہ فرمالیا۔ مگر یہ وعدہ ایک صادق کریم کاہے جس میں خلاف ورزی کاکوئی امکان ہی نہیں ، آگے انسان کے مزیداطمینان کے لئے فرمایا ویعلم مستقر ھاومستودعھااس آیت میں مستقر اور مستودع کی مختلف تفسیریں منقول ہیں مگر لغت کے اعتبار سے وہ اقرب ہے جس کو کشاف نے اختیار کیاہے کہ مستقراس جگہ کو کہاجاتاہے جہاں کوئی شخص مستقل طورپر جائے قیام یاوطن بنالے اور مستودع اس جگہ کو جہاں عارضی طورکسی ضرورت کے لئے ٹھہرے۔(یعنی جہاں مستقل ٹھہرے گایا عارضی طورپرکہیں جائے گا رزق ہرجگہ پہنچ کررہے گا)۔آگے پھر مزید اطمینان کے لیے فرمایاکل فی کتب مبینیعنی یہ سب کچھ ایک واضح کتاب میں لکھاہواہے۔ مراد لوح محفوظ ہے، جس میں کائنات کی روزی ، عمر اور عمل وغیرہ کی پوری تفصیل لکھی ہوئی ہے ۔ یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ جب ہر جاندار کا رزق اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے توپھر ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں کہ بعض جانور اور انسان غذا نہ ملنے کے سبب بھوکے پیاسے مرجاتے ہیں ۔ علماء حضرات نے اس کے متعد دجواب لکھے ہیں ان میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ رزق کی ذمہ داری اسی وقت تک ہے جب تک اس کی اجل ِمقدر یعنی عمر پوری نہیں ہوجاتی ۔ جب یہ عمر پوری ہوگئی تو اس کو بہر حا ل مرناہے۔ جس کاعام سبب امراض ہوتے ہیں کبھی جلنا یا غرق ہونا یاکوئی حادثہ وغیرہ بھی سبب ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس کا رزق بند کر دیاگیا ہو اور اس پر موت واقع ہوگئی۔

اﷲ پر بھروسہ رزق آسانی سے فراہمی کاذریعہ ہے

ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :ومن یتق اﷲیجعل لہ مخرجاویرزقہ من حیث لایحتسب ومن یتوکل علی اﷲفھوحسبہ ان اﷲبالغ امرہ قدجعل اﷲلکل شیء قدرا…اور جو کوئی ڈرتاہے ا ﷲ تعالیٰ سے وہ کردے گااس کیلئے نکلنے کاراستہ گزار اور روزی دے گااس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہوگا اور جوکوئی بھروسہ رکھے اﷲ پر تو وہ اس کو کافی ہے ۔ تحقیق اﷲ پورا کرلیتاہے اپنا کام۔ اﷲ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ۔
فائدہ!یعنی اﷲ کا ڈر  دارین کے خزانوں کی کنجی اور تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے اسی سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں اوربے قیاس وبے گمان روزی ملتی ہے ۔ گناہ معاف ہوتے ہیں ۔جنت ہاتھ آتی ہے۔ اجر بڑھتاہے اور ایک عجیب قلبی سکون واطمینان نصیب ہوتاہے ، جس سے تمام پریشانیاں اندر ہی اندر کافور ہوجاتی ہیں اور آگے فرمایا: ومن یتوکل علی اﷲ فھوحسبہ یعنی اﷲپر بھروسہ رکھو محض اسباب پرتکیہ مت کرو اﷲ کی قدرت ان اسباب کی پابند نہیں ۔ جو کام اسے کرنا ہو وہ پورا ہوکر رہتاہے ۔ اسباب بھی اسی کی مشیت کے تابع ہیں۔ ہاں ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ ہے ۔ اسی کے موافق وہ ظہور پذیر ہوتی ہے اسی لئے اگر کسی چیز کے حاصل ہونے میں دیر ہو تو گھبرانانہیں چاہیے ۔

کھانا کھانے سے متعلق آداب اورسنتیں

۱- کھانے سے پہلے ہاتھ دھونااور کلی کرنا۔
۲- دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا ،اسی طرح کسی دوسرے کو کھانا دینا یاکھانالینا ہو تب بھی دایاں ہاتھ استعمال کرنا۔
۳- اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانا، کھانے میں جتنے ہاتھ جمع ہوں گے اتنی ہی برکت (اورمحبت) ہوگی ۔ 
۴- کھانے کی ہر مقدار اورہرطرح کے کھانے پر قناعت کرلینا یعنی جتنا اور جیسا کھانامل جائے اس پر راضی رہنا اور ا ﷲ کا فضل سمجھ کر کھانا۔
۵- کھاناکھانے کے لئے اکڑوںبیٹھنا کہ دونوں گھٹنے کھڑے ہوں اور سرین زمین پر ہو  یا ایک گھٹنا کھڑا ہو اور دوسرے گھٹنے کو بچھا کر اس پر بیٹھے یا دونوں گھٹنے زمین پر بچھا کر قعدہ کی حالت میں بیٹھے اور آگے کی طرف ذرا جھک کرکھانا کھائے۔
۶- جوتے اتار کرکھانا کھانا۔
۷- کھانے کی مجلس میں جو شخص بزرگ ہو اور بڑا ہو ان سے شروعات کرانا ۔ 
۸- دسترخوان کو زمین پر بچھا کر کھانا کھانا۔
۹- بسم ا ﷲ الرحمن الرحیم (یابسم اﷲ علی برکۃ اﷲ )پڑھ کر کھانا شروع کرنا۔
۱۰- اگر بسم اﷲ پڑھنا بھول جائے اور درمیان میں یاد آجائے تو یوں پڑھے بسم اﷲ اولہ واٰخرہ۔
۱۱- کھانا اپنی جانب والے کنارے سے شروع کرنا۔ برتن کے بیچ میں یا دوسرے آدمی کے آگے ہاتھ نہ ڈالنا۔
۱۲- کھانے میں پھونک نہ مارنا۔
۱۳- دسترخوان پر مختلف کھانے ہوں تو ہاتھ گھمانا جائز ہے ۔
۱۴- گوشت کابڑا پارچہ ہوتو اس کو چھری سے کاٹ کر کھانا درست ہے۔ 
۱۵- تیز گرم کھانا نہ کھائیں۔ ذرا دم لیں سہانا ہوجائے تب کھائیں۔
۱۶- کھانا کھاتے ہوئے کھانے کی چیز یا لقمہ زمین پر گرجائے تو چاہیے کہ اس کو اٹھالے اور اس کو صاف کرکے کھالے ۔ اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔
۱۷- جب کھانا کھا چکے تو انگلیوں کو چاٹ لے اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
۱۸- کھانا کھانے کے درمیان کوئی آجائے تواس کوکھانے کی دعوت دینا۔
۱۹- جس خادم نے کھانا پکایا ہو اسے کھانے میں شامل کرنا یا اس کوکھانے میں سے کچھ الگ دیدینا۔
۲۰- اس گھر میں خیرو برکت ہوگی جس گھر میں کھانے کے بعد ہاتھ دھونے اور کلی کرنے کی عادت ہو۔
۲۱- جو شخص پیالے میں کھائے اور پھر اس کو چاٹے تو پیالہ(وغیرہ) اس کے لئے دعا ء مغفرت کرتاہے ۔
۲۲- اگر آپ کا ساتھی کھانا کھارہاہے تو حتی الوسع اس کا ساتھ دیں تاکہ وہ پیٹ بھر کر کھالے ۔ مجبوری ہوتو عذر کرلے ۔
۲۳- دستر خوان پہلے اٹھالیاجائے اس کے بعد کھانے والے اٹھیں۔
۲۴- کسی دوسرے کے دسترخوان پر کھانا کھائے تو اس کے لئے یہ دعا بغیر ہاتھ اٹھائے پڑھ لے:

 اللھم اطعم من اطعمنی واسق من سقانی۔

۲۵- کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھنا:

 الحمدﷲالذی اطعمنا وسقانا وجعلنامن المسلمین۔

۲۶- گھر میں سرکہ اور شہد رکھنا سنت ہے ۔
۲۷- کھانا کھانے کے بعد جب انگلیاں چاٹیں تو پہلے بڑی انگلی، اس کے بعد کلمے والی انگلی اس کے بعد انگوٹھا ( اگر بقیہ انگلیاںاستعما ل ہوئی ہوں تو بعد میں)۔
۲۸- دسترخوان اٹھ جائے تو یہ دعا پڑھنا:الحمد للہ حمدا کثیراطیبامبارکافیہ غیرمکفی ولامودع ولا مستغنی عنہ ربنا۔
۲۹- کھانے میں سرکہ کا استعمال رکھنا۔
۳۰- کھانا کھانے کے بعد پانی نہ پینا(پہلے یا درمیان میںپی لیں )۔
۳۱- کھانا کھانے کے بعد فوراً نہیں سونا چاہیے یہ دل میں ثقالت پیدا کرتاہے ۔
۳۲- دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے لیٹ جانا مسنون ہے ۔
۳۳- ٹیک لگائے بغیر کھانا ۔
۳۴- جب موسم کاپہلا پھل کھائیں تو یہ دعا پڑھیں ۔اللھم کمااریتنا أولہ أرنااخرہ اس کے بعدسنت یہ ہے کہ پہلے کسی معصوم بچے کو کھلائیں بعد میں خود کھائیں ۔
۳۵-    بسم ا ﷲ کو آواز سے پڑھنا اولیٰ ہے تاکہ دوسرے ساتھی کو اگر خیال نہ رہے تو یاد آجائے۔
اﷲ رب العزت ہم سب کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔






No comments:

close