Agriculture - Roshan Worlds

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Tuesday, July 27, 2021

Agriculture

 


 

کاشتکاروں کا بٹ کوائین

آپ کے خیال میں ایک درخت کس قدر مہنگا بک سکتا ہے؟ ایک لاکھ روپے؟ دس لاکھ روپے؟۔بنکاک کے ایک مندر میں ایسا درخت موجود ہے جس کی قیمت 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز لگ چکی ہے۔ بلاشبہ یہ دنیا کا قیمتی ترین درخت ہے جسے عربی میں ’’عود‘‘ اور انگریزی میں کہتے ہیں۔

Agerwood

عود کی سب سے نایاب قسم کینام ہے جس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 9 ملین ڈالرز فی کلو ہے۔ کچھ عرصہ قبل شنگھائی میں کینام کا دو کلو کا ٹکڑا 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز میں فروخت ہوا۔ عام طور پر عود کی قیمت اس میں موجود عرق کی مقدار پر منحصر ہے جو 80 ہزار ڈالر فی لٹر بکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی چھال دو سو ڈالر سے پانچ ہزار ڈالر فی کلو تک فروخت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس درخت میں ایسا کیا ہے جس کے لیے جاپانی سرمایہ کار اتنی قیمت دینے کے لیے تیار ہیں۔

عود ایسا درخت ہے جسے بدھ مت، ہندو مت اور اسلام میں مذہبی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں ہندوؤں کی مذہبی کتاب رگ ویدا میں اس کا تذکرہ ملتا ہے وہیں شواہد ملے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں اس لکڑی کو ہندوستان سے منگوا کر خوشبو کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں ہے کہ "تم اس عودِ ہندی کو لازم جانو کہ اس میں سات طرح کی شفاء ہے"۔ جن خوش نصیب لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے انہوں نے حرم کی فضا میں مسحور کن خوشبو محسوس کی ہوگی، یہ خوشبو عود کے سلگنے سے اٹھتی ہے۔ کعبہ شریف کے غلاف اور حجرا اسود پر بھی عود کی خوشبو لگائی جاتی ہے۔

عود کا شمار دنیا کے مہنگے ترین پرفیومز میں کیا جاتا ہے جسے صرف عرب شہزادے اور امیر لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔اس درخت کے طبی فوائد کا ذکر کریں تو اس کی تاثیر خواب آور ہے۔ جوڑوں کے درد، جلدی امراض، ہاضمے کی خرابی اور کینسر میں فائدہ دیتا ہے۔جو لوگ مراقبہ یا اس قسم کی ذہنی مشقیں کرتے ہیں ان کے لیے عود کے بخارات موثر ہیں۔

عود کی مانگ میں عالمی سطح پر دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر اس کی مارکیٹ 32 ارب ڈالرز کی ہے جو اگلے آٹھ سال میں دگنی ہوجائے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنے فوائد کے باوجود اس درخت کی مانگ پوری نہیں ہورہی؟ سادہ الفاظ میں اس کی وجہ عود کی محدود پیداوار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر درخت میں عود پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ خوشبو اٹھتی ہے بلکہ جب ان درختوں میں ایک خاص قسم کی پھپوندی لگتی ہے تو اس میں سرخی مائل مادہ پیدا ہوتا۔ یہ مادہ دراصل پھپھوندی کے خلاف درخت کے مدافعتی کیمیکلز ہیں جن کے پیدا ہونے سے لکڑی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ایسی لکڑی کے ٹکڑوں یا برادے کو سلگا کر خوشبو کے حصول کے لیے یا اس میں سے عرق نکال کر صنعتی پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔قدرتی طور پر صرف 2 فیصد عود میں پھپھوندی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس میں مصنوعی طور پر فنگل انفیکشن کرائے جاتے ہیں جس کے لیے اس کے تنے پر چار انچ کے فاصلہ پر کیل لگائے جاتے ہیں یا تنے میں انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔

عام طور پر درخت دیکھنے سے پتا نہیں چلتا کہ اس میں عود پیدا ہوگیا ہے یا نہیں۔ اس لیے عود کی دن بدن بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے۔ آسام میں عود کے جنگلات معدوم ہوچکے ہیں۔اگرچہ حکومتی سرپرستی میں عود کی شجرکاری شروع ہوچکی ہے لیکن یہ طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ عالمی تنظیم سائٹس نے اس درخت کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے کٹائی پر پابندی عائد کردی ہے۔ ملائشیا اور انڈونیشیا میں اس درخت کی برآمد کا ایک کوٹہ مقرر ہے جس کے لیے سائٹس کا جاری کردہ سرٹیفیکٹ دکھانا پڑتا ہے۔

اتنی پابندی اور سخت عالمی قوانین کے باوجود بھی عود کی بلیک مارکیٹنگ ہورہی ہے۔ بنکاک کی عرب سٹریٹ عود مافیا کا گڑھ ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں پولیس، کسٹم حکام اور انڈرورلڈ مافیا تک شامل ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے خفیہ طور پر عود کے درخت کاٹ کر یہاں فروخت کیے جاتے ہیں۔عود مافیا اس کا وزن بڑھانے کے لیے سیسے کی ملاوٹ بھی کر رہے ہیں جو انسانی صحت کے لیے جان لیوا ہے۔

عود کی زیادہ تر کاشت ویت نام، کمبوڈیا، چین، تھائی لینڈ، جاپان، سری لنکا اور بھارت میں کی جاتی ہے۔ پاکستان میں آب وہوا اور زمین اس کی کاشت کے لیے سازگار ہے۔ یہ درخت کم از کم 5 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 42 ڈگری درجہ حرارت برداشت کر لیتا ہے جبکہ 25 ڈگری درجہ حرارت پر اس کی نشونما بہترین ہوتی ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں مارچ اور اپریل میں اس کی کاشت کے لیے موسم موزوں ہوتا ہے۔

اس کے بیج شروع میں گملے وغیرہ میں لگانے چاہئیں تاکہ ان کا اچھی طرح خیال رکھا جاسکے۔ ہلکی مٹی میں ڈائریکٹ بیج لگا دیے جائیں تو دس دن میں بیج پھوٹ آتے ہیں۔ ابتدائی چند ہفتے پودوں کو کھڑکی کے سامنے کھلی جگہ پر رکھیں تاکہ روشنی ملتی رہے۔ تین ماہ بعد پودے کھیت میں منتقل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کی دیکھ بھال عام درختوں کی طرح کی جاتی ہے۔ عام طور پر 10 سال میں یہ درخت مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے لیکن آج کل 4 سال بعد اس کی فروخت شروع کر دی جاتی ہے۔

آج کل زراعت صرف چند فصلیں اگانے تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک ایگروفاریسٹری کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں جس میں فصلوں کے ساتھ ساتھ درخت لگا کر کاشتکاروں کی آمدنی بڑھائی جاتی ہے۔ عام کسان اپنی فصلوں کے علاوہ اس طرح کے درخت لگا کر لاکھوں کما سکتے ہیں۔ عود، زیتون، ساگوان اور صندل وغیرہ جتنے پرانے ہوتے جائیں ان کی قیمت میں اتنا زیادہ اضافہ ہوتا جاتا ہے اس لیے یہ درخت آنے والی نسلوں کے لیے بھی سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں ان درختوں پر تحقیق کی جائے اور ایسی ورائٹیز بنائی جائیں جو مقامی ماحول سے مطابقت رکھتی ہوں۔ اس کے بعد ان کی کاشت کے لیے موزوں طریقہ کار اپناتے ہوئے کسانوں کو تربیت دی جائے تاکہ وہ ایگروفاریسٹری سے فائدہ اٹھا سکیں۔ 

No comments:

close