Shab e-Barat - Roshan Worlds

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Monday, March 21, 2022

Shab e-Barat

 

شبِ برأت کی حقیقت اور فضیلت

ماہِ شعبان کی فضیلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں شبِ برأت جیسی عظیم الشان رات پائی جاتی ہے، یہ پندرہویں شعبان کی رات ہوتی ہے، احادیثِ مبارکہ سے اس کی بڑی فضیلت ثابت ہے۔ دیگر راتوں کی طرح یہ رات بھی مغرب ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ اس رات رحمتِ خداوندی کی تجلیات آسمانِ دنیا تک اُتر آتی ہیں، اس رات خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بخشش، رحمتیں اور مہربانیاں نازل فرماتا ہے، بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے، مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے اور سوالیوں کی جھولیاں بھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان خصوصی کرم نوازیوں کا سلسلہ پوری رات جاری رہتا ہے اور صبح صادق پر اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔



اس رات اللہ تعالیٰ محض اپنے کرم سے مغفرت کا عام اعلان فرماتے ہوئے بے شمار بندوں کی بخشش فرما کر ان کو جہنم سے چھٹکارہ عطا فرماتا ہے۔ برأت کے معنی نجات پانے کے ہیں، چوں کہ اس رات اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے نجات دیتے ہیں اس لیے اس کو شبِ برأت کہا جاتا ہے۔

 

مغفرت سے محروم چند بد نصیب لوگ:

شبِ برأت مغفرت کی عظیم الشان رات ہے، لیکن کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں کہ جو  اس عظیم رات بھی بخشش سے محروم ہوجاتے ہیں، معاذ اللہ، ایسے بد نصیبوں کا ذکر مختلف احادیث مبارکہ میں وارد ہے:

کسی مسلمان کے لیے دل میں بغض اور کینہ رکھنے والا۔

رشتہ داری توڑنے والا۔

کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا۔

بدکار عورت۔

شرک اور کفرکرنے والا۔

والدین کا نافرمان۔ 

بعض روایات میں ٹخنے چھپانے والے مرد اور شرابی کا بھی ذکر آیا ہے۔

ان احادیثِ مبارکہ کا درس یہ ہے کہ ان گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کی جائے، اور جو لوگ ان گناہوں میں مبتلا ہیں وہ ان سے سچی توبہ کرلیں تاکہ وہ شبِ برأت کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے حقدار قرار پائیں۔

(شعب الایمان حدیث: 3557 ،3555 ،3548، سنن الترمذی حدیث: 739، مسند احمد حدیث: 6642، صحیح ابن حبان حدیث: 5665، شعبان وشب برأت کے فضائل و احکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

اس سے متعلقہ روایات تحریر کے آخر میں ذکر کی جائیں گے ان شاء اللہ۔

 


📿 شبِ برأت کے اعمال اور عبادات:

شبِ برأت بڑی فضیلت والی رات ہے، اس رات امت کے بزرگانِ دین عبادات کا خصوصی اہتمام فرماتے رہے ہیں، اس رات عبادات کے لیے جاگنا اجر وثواب کا باعث ہے۔ اس لیے ہر شخص کو  اپنی وسعت کے مطابق نوافل، ذکر وتلاوت اور دعاؤں وغیرہ کا اہتمام کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیے۔ اخلاص کے ساتھ رات کا جس قدر بھی حصہ عبادات میں بسر کرنے کا موقع میسر آجائے تو فضیلت کی بات  ہے، البتہ عبادات کا یہ اہتمام مساجد کی بجائے اپنے گھروں میں ہونا چاہیے اور یہی افضل ہے، اس لیے مساجد میں جمع ہوکر نفلی عبادات کا اہتمام کرنا  شریعت کے مزاج کے موافق نہیں۔ ساتھ میں یہ واضح رہے کہ شبِ برأت میں قرآن و سنت سے کوئی بھی مخصوص عبادت ثابت نہیں، بلکہ اس میں عام عبادات جیسے نماز، تلاوت، ذکر اور دعاؤں وغیرہ ہی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ آجکل بعض حضرات نے اس رات کے لیے مخصوص نمازیں اور عبادات بنا رکھی ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی ثبوت نہیں، ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے،جیسا کہ بعض لوگوں نے 15 شعبان یعنی شبِ برأت کے حوالے سے اپنی طرف سے ایک نماز ایجاد کر رکھی ہے کہ دو یا چار رکعات اس طرح ادا کی جائیں کہ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد فلاں سورت اتنی بار پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی بار پڑھی جائےتو واضح رہے کہ یہ بھی شریعت سے ثابت نہیں، اسی طرح بعض لوگ  صلاۃ التسبیح یا کوئی اور نفل نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تو واضح رہے کہ یہ بھی جائز نہیں۔ اس لیے اپنی طرف سے کسی رات سے متعلق فضائل بیان کرنا یا عبادات خاص کرنا شریعت کے خلاف اور بہت بڑا جرم ہے۔

 

📿 شبِ برأت میں دعا کی قبولیت:

حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ: “ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ پانچ راتوں میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے، یعنی: جمعہ کی رات، عید الاضحیٰ کی رات، عید الفطر کی رات، ماہِ رجب کی پہلی رات اور پندرہ شعبان کی رات۔’’ آگے فرماتے ہیں کہ: ‘‘میں اس کو مستحب قرار دیتا ہوں۔’’

الأم للإمام الشافعي رحمه الله:

قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ فِي خَمْسِ لَيَالٍ: فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى، وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ، وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ..... قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَنَا أَسْتَحِبُّ كُلَّ مَا حُكِيَتْ فِي هَذِهِ اللَّيَالِيِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فَرْضًا. (الْعِبَادَةُ لَيْلَة الْعِيدَيْنِ)

السنن الكبرى للبيهقي رحمه الله:

قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إِنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ فِي خَمْسِ لَيَالٍ: فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى، وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ، وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبَ، وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

(الْتِمَاسُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ)

یہ بات حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے، ملاحظہ فرمائیں:

مصنّف عبد الرزاق:

7927- قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْبَيْلَمَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَمْسُ لَيَالٍ لَا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءَ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ.

فضائل الأوقات للبيهقي رحمه الله:

149- أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيَّ أَخْبَرَهُمْ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ السَّلْمَانِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَتَا الْعِيدِ.

اس بات کو حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے قبول فرمایا ہے، اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ شبِ برأت اپنی ذات میں بھی عبادت اور دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے جیسا کہ ماقبل میں تفصیل بیان ہوچکی،  اس سے معلوم ہوا کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے شبِ برأت میں دعا وعبادات کا اہتمام کرنا افضل اور بہتر ہے۔

 


📿 شبِ برأت میں قبرستان جانے کا حکم:

حضور اقدس ﷺ سے زندگی میں صرف ایک بار اس رات قبرستان جانا ثابت ہے، تو اگر قبرستان جانا اس رات کے مستقل اعمال میں سے ہوتا اور سنت یا مستحب ہوتا تو یہ عمل متعدد بار ثابت ہوتا اور اسی طرح حضرات صحابہ کرام سے بھی اس کا معمول ثابت ہوتا، حالاں کہ احادیث سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص پندرہ شعبان کو زندگی میں ایک بار یا کبھی کبھار حضور اقدس ﷺ کی اتباع کی نیت سے چلا جائے تو یہ درست ہے، لیکن 15 شعبان کی رات قبرستان جانے کو سنت سمجھنا یا اس رات کے اعمال میں سے سمجھنا یا اس کا خصوصی اہتمام کرنا یا اجتماعی صورت میں جانا حتی کہ قبرستان میں چراغاں کرنا، قبروں پر پھول ڈالنا، عرقِ گلاب چھڑکنا یا ان جیسی دیگر بدعات ورسومات سرانجام دینا؛ ان سب باتوں کی دین میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ اپنی طرف سے ایجاد کردہ بدعات ہیں، جن سے اجتناب کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔

 

📿 شبِ برأت میں کھانا وغیرہ تقسیم کرنے کا حکم:

 پندرہ شعبان کے دن یا رات میں خصوصیت کے ساتھ کوئی حلوہ، چاول وغیرہ پکانے یا تقسیم کرنے کا اہتمام کرنا قرآن و سنت سے ہرگز ثابت نہیں، بلکہ یہ سب باتیں اپنی طرف سے ایجاد کردہ بدعات ہیں، اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ (اصلاحی خطبات، فتاویٰ محمودیہ)

 

📿 شبِ برأت میں چراغاں کرنا:

بعض لوگ اس رات مساجد، گھروں اور گلی کوچوں میں چراغاں کرتے ہیں، واضح رہے کہ یہ بھی غیر شرعی عمل ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

 

📿 کیا شبِ برأت کی فضیلت قرآن کریم سے ثابت ہے؟

قرآن کریم سورۃ الدخان میں جس مبارک رات کا ذکر ہے تو اس سے مراد جمہور اہلِ علم کے نزدیک شبِ قدر ہے، جہاں تک شبِ برأت کا تعلق ہے تو قرآن کریم میں اس رات سے متعلق کوئی تذکرہ موجود نہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس رات کی فضیلت ہی نہیں کیوں کہ شبِ برأت کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، اور امت کے جلیل القدر ائمہ کرام نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے معارف القرآن سورۃ الدخان ملاحظہ فرمائیں۔

 

📿 پندرہ شعبان کا روزہ:

15 شعبان کے روزے سے متعلق ذخیرۂ احادیث میں صرف ایک حدیث ایسی ملتی ہے جس سے روزہ رکھنا ثابت ہوتا ہے، اور وہ سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔بعض اہلِ علم نے تو اس حدیث کو قبول فرماتے ہوئے اس دن روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے، جبکہ دیگر اہلِ علم فرماتے ہیں کہ محض ایک ضعیف حدیث کی وجہ سے خصوصیت کے ساتھ 15 شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ اگر کوئی شخص اس دن روزہ رکھنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ ایامِ بِیض یعنی 13، 14، 15 شعبان کے تین روزے رکھے جائیں کیوں کہ ہر اسلامی مہینے کی ان تاریخوں کو روزے رکھنے کی بڑی فضیلت ہے، تو اس طرح ان کے ضمن میں پندرہ شعبان کا روزہ بھی آجاتا ہے، یا صرف پندرہ  شعبان کا روزہ اس نیت سے رکھا جائے کہ ویسے بھی شعبان کے مہینے میں روزے رکھنا بڑی فضیلت کی بات ہے تو یہ پندرہ شعبان بھی انہی میں سے ایک دن ہے اور ایامِ بیض میں سے بھی ہے، تو یہ بھی درست ہے، البتہ اس دن کو کوئی خاص فضیلت دینا ثابت نہیں۔

 


🌹 اصلاحی خطبات سے طویل اقتباس:

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دام ظلہم فرماتے ہیں:

 

📿 اس رات کی فضیلت بے بنیاد نہیں:

واقعہ یہ ہے کہ شبِ برأت کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں، لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بالکل غلط ہے۔

 

📿 شبِ برأت اور خیرُ القرون:

امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور؛  اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے، لوگ اس رات کے اندر عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے۔

 

📿 کوئی خاص عبادت مقرر نہیں:

البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شبِ برأت میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلًا پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اس کا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادات جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفلی نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکر کریں، تسبیح پڑھیں، دعائیں کریں؛ یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں،  لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔

 

📿 اس رات میں قبرستان جانا:

اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لیے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برأت میں قبرستان جائیں، لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم ﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجے میں اسے رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریم ﷺ سے ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے کہ آپ شبِ برأت میں جنت البقیع تشریف لے گئے، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لیے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے، لیکن ہر شبِ برأت میں جانے کا اہتمام کرنا، التزام کرنا، اور اس کو ضروری سمجھنا اور اس کو شبِ برأت کے ارکان میں داخل کرنا اور اس کو شبِ برأت کا لازمی حصہ سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شبِ برأت نہیں ہوئی؛ یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔ لہذا اگر کبھی کوئی شخص اس نقطہ نظر سے قبرستان چلا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے تھے، میں بھی آپ کی اتباع میں جارہا ہوں تو ان شاء اللہ اجر وثواب ملے گا، لیکن اس کے ساتھ یہ کرو کہ کبھی جاؤ، کبھی نہ جاؤ، لہٰذا اہتمام اور التزام نہ کرو، پابندی نہ کرو، یہ درحقیقت دین کی سمجھ کی بات ہے کہ جو چیز جس درجہ میں ثابت ہو اس کو اسی درجہ میں رکھو، اس سے آگے مت بڑھاؤ، اور اس کے علاوہ دوسری نفل عبادت ادا کرلو۔

 

📿 پندرہ شعبان کا روزہ:

ایک مسئلہ شبِ برأت کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، اس کو بھی سمجھ لینا چاہیے، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزے کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے یعنی یکم شعبان سے ستائیس شعبان تک روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28 اور 29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلیے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے، لیکن یکم شعبان سے 27 شعبان تک ہر دن روزہ رکھنے میں فضیلت ہے، دوسرے یہ کہ یہ پندرہ تاریخ ایامِ بیض میں سے بھی ہے اور حضور اقدس ﷺ اکثر ہر ماہ کے ایامِ بیض میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے، یعنی 13، 14، 15 تاریخ کا روزہ رکھےایک اس وجہ سے کہ یہ شعبان کا دن ہے، دوسرے اس وجہ سے کہ یہ 15 تاریخ ایامِ بیض میں داخل ہے، اگر اس نیت سے روزہ رکھ لے تو ان شاء اللہ موجبِ اجر ہوگا، لیکن خاص پندرہ تاریخ کو خصوصیت کے لحاظ سے اس روزے کو سنت قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، اسی وجہ سے اکثر فقہاء کرام نے جہاں مستحب روزوں کا ذکر کیا ہے وہاں محرم کی دس تاریخ کے روزے کا ذکر کیا ہے، یوم عرفہ کے روزے کا ذکر کیا ہے، لیکن پندرہ شعبان کے روزے کا علیحدہ سے ذکر نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ شعبان کے کسی بھی دن روزہ رکھنا افضل ہے، بہرحال اگر اس نقطہ نظر سے کوئی شخص روزہ رکھ لے تو ان شاء اللہ اس پر ثواب ہوگا، باقی کسی دن کی کوئی خصوصیت نہیں۔ (اصلاحی خطبات جلد 4)

 

🌹 فائدہ:

پندرہ شعبان سے متعلق تفصیل کے لیے دیکھیے: فتاویٰ محمودیہ، بہشتی زیور، فتاویٰ دارالعلوم زکریا، اصلاحی خطبات، فتاویٰ حقانیہ، شعبان وشبِ برأت کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم۔

 


📚 احادیث مبارکہ

شعب الایمان:

3542- عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَتَهَا، وَصُومُوا يَوْمَهَا، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، أَلَا مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَأَرْزُقَهُ، أَلَا مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ». وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَذَكَرَ فِيهِ لَفْظُ النُّزُولِ، وَقَالَ بَدَلَ السَّائِلِ: «أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ»، أَلَا كَذَا ...

3543- عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَغْفِرُ اللهُ مِنَ الذُّنُوبِ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ» ...

3544- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ تَطْلُبُهُ فِي الْبَقِيعِ، فَرَأَتْهُ رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ قَالَتْ: فقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ. وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَاسْتَثْنَى فِي بَعْضِهَا: الْمُشْرِكَ وَالْمُشَاحِنَ، وَفِي بَعْضِهَا: الْمُشْرِكَ، وَقَاطِعَ الطَّرِيقِ، وَالْعَاقِّ، وَالْمُشَاحِنُ،  وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ مَوْصُولًا كَمَا:

3545- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ النَّبِيَّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجْتُ أَطْلَبُهُ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا بِي مِنْ ذَلِكَ، وَلَكِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ ....

3546- عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ: عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ.

3547- عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «لِكُلِّ نَفْسٍ إِلَّا إِنْسَانًا فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ أَوْ مُشْرِكًا بِاللهِ».

3548- وأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ بِإِسْنَادِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَعَمِّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَقَالَ: فَيَغْفِرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْعَاقَّ والْمُشَاحِنَ.

3550- أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَرِّ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ قال: إِنَّ اللهَ يَطْلُعُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فِي النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ إِلَّا كَافِرٍ أَوْ مُشَاحِنٍ، لَمْ يُجَاوِزْ بِهِ مَكْحُولًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَكْحُولٍ عَمَّنْ فَوْقَهُ مُرْسَلًا ومَوْصُولًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.

3550- عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ: عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قال: «فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا الْمُشْرِكَ وَالْمُشَاحِنَ». هَذَا مُرْسَلٌ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ أَيْضًا بَيْنَ مَكْحُولٍ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ كَمَا:

3551- عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: «إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اطَّلَعَ اللهُ إِلَى خَلْقِهِ فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِ، وَيُمْلِي لِلْكَافِرِينَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدَعُوهُ».

3555- عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: «إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ نَادَى مُنَادٍ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ فَلَا يَسْأَلُ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أَوْ مُشْرِكٌ».

3556- عَنْ أَبِي رُهْمٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ، وَأُحَدِّثُكَ بِمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: «اللهُمَّ امْلَأْ سَمْعِي نُورًا، وَبَصَرِي نُورًا، وَمِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِيَ النُّورَ بِرَحْمَتِكَ»-وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدٍ: «وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»، ثُمَّ اتَّفَقَا- قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَوَضَعَ عَنْهُ ثَوْبَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَسْتَتِمَّ أَنْ قَامَ فَلَبِسَهُمَا فَأَخَذَتْنِي غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ صُوَيْحِباتِي فَخَرَجْتُ أَتْبَعَهُ فَأَدْرَكْتُهُ بِالْبَقِيعِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ يَسْتَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالشُّهَدَاءِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ فِي حَاجَةِ رَبِّكَ، وَأَنَا فِي حَاجَةِ الدُّنْيَا فَانْصَرَفْتُ، فَدَخَلْتُ حُجْرَتِي وَلِي نَفَسٌ عَالٍ، وَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ، فَقَالَ: مَا هَذَا النَّفَسُ يَا عَائِشَةُ؟، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَتَيْتَنِي فَوَضَعْتَ عَنْكَ ثَوْبَيْكَ ثُمَّ لَمْ تَسْتَتِمَّ أَنْ قُمْتَ فَلَبِسْتَهُمَا فَأَخَذَتْنِي غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ، ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَأْتِي بَعْضَ صُوَيْحِباتِي حَتَّى رَأَيْتُكَ بِالْبَقِيعِ تَصْنَعُ مَا تَصْنَعُ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ بَلْ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلّٰہِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ. قَالَ: ثُمَّ وَضْعَ عَنْهُ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ تَأْذَنِينَ لِي فِي قِيَامِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي، فَقَامَ فَسَجَدَ لَيْلًا طَوِيلًا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قُبِضَ فَقُمْتُ أَلْتَمِسْهُ، وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ فَتَحَرَّكَ فَفَرِحْتُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ:أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، جَلَّ وَجْهُكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرْتُهُنَّ لَهُ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ تَعَلَّمْتِهُنَّ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: تَعَلَّمِيهِنَّ وَعَلِّمِيهِنَّ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَّمَنِيهِنَّ وَأَمَرَنِي أَنْ أُرَدِّدَهُنَّ فِي السُّجُودِ.

 

🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ

فاضل جامعہ دار العلوم کراچی


No comments:

close