itikaf-k-masail - Roshan Worlds

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Saturday, April 8, 2023

itikaf-k-masail

 


اعتکاف کے فضائل و مسائل

ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا مسنون اعتکاف بھی ہے، حضور علیہ السلام نے خود اعتکاف کیا اور آپ کی ازواج مطہراتؓ بھی ان ایام میں اعتکاف بیٹھتیں، ایک سال نبی علیہ السلام نے اعتکاف بیٹھ کر چھوڑ دیا تو اگلے سال دس دن کی بجائے بیس دن اعتکاف بیٹھے، گویا گزشتہ سال کی قضا بھی کرلی۔

حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے (قال فی المعتکف ھو یعتکف الذنوب ویجری لہٗ من الحسنات کعامل الحسنات کلھا۔ ابن ماجہ) آپ ﷺنے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کی نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرح جاری رہتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے گویا ہر قسم کی نیکیاں کرنے والے کا اجر معتکف کو ملتا رہتا ہے۔

آپ ﷺکا یہ ارشاد بھی ہے (من اعتکف یوماً لابتغاء وجہ ﷲ) جو آدمی ﷲ کی رضا کی خاطر ایک دن کیلئے اعتکاف بیٹھا، ﷲ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان اتنی بڑی خندق حائل کر دے گا جتنا فاصلہ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے، یہ نفلی اعتکاف کی بات ہے اور رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف تو سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، جس کا مرتبہ نفلی اعتکاف سے بہت زیادہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں یا محلے کی مسجد میں کم از کم ایک آدمی ضرور اعتکاف بیٹھے، اگر کوئی بھی نہیں بیٹھتا تو سارے گاؤں یا محلے والے گنہگار ہوں گے۔

حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ جب انسان کے افکار اور ذہن مختلف باتوں سے پراگندہ ہو جاتے ہیں اور لوگوں کے میل جول سے آدمی سخت پریشان ہو جاتے ہیں تو اسلام نے پراگندگی اور پریشانی کا علاج اعتکاف کے ذریعے کیا ہے، اعتکاف بیٹھنے والا آدمی عام لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت میں مصروف ہو جاتا ہے جس کی بدولت اس کی ذہنی پریشانی اور خلفشار دور ہو جاتا ہے، اعتکاف بیٹھنے کا یہ فلسفہ ہے، یہ ایسی عبادت ہے جس میں ہر چیز چھوڑ کر آدمی ﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے، گویا

؎ بستر بچھا دیا ہے تیرے در کے سامنے

معتکف حضرات اچھی طرح سن لیں کہ اعتکاف میں یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لئے حکم ہے کہ اعتکاف بیٹھنے والے ہر طرف سے کٹ کر مسجد کے کسی کونے میں گوشہ نشین ہوجائیں تاکہ انہیں یکسوئی حاصل ہوجائے، سال بھر تک اشتغال میں مصروف رہتے ہیں، اب یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔



اسی لئے میں ہمیشہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بچوں کو معتکف حضرات کے پاس نہ آنے دیں، ایک تو وہ بچے مسجد کا احترام ملحوظ نہیں رکھتے، دوسرے معتکف کی یکسوئی میں حائل ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کھانے کے ساتھ بہت سے بچوں کو بھی ساتھ لے آئیں اور معتکف بچوں کے ساتھ دل لگی کرنے لگے، اس طرح تو اعتکاف کا مقصد حاصل نہیں ہوتا، معتکف کو یکسوئی حاصل ہونی چاہئے تاکہ وہ نماز پڑھے، تلاوت کرے، اوراد کرے، سال بھر ہر چیز ہماری نظروں کے سامنے ہوتی ہے، ریڈیو کے گانے، ٹیلی ویژن کی تصاویر اور جھوٹے ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں، کم از کم اعتکاف کے ان دس دنوں میں تو ان خرافات سے بچ جائیں اور ہمارے اندر کچھ انسانیت اور روحانیت پیدا ہوجائے، اعتکاف کا مقصد تو یہی ہے۔

کسی نے مفتی صاحب سے مسئلہ دریافت کیا کہ ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے جو اعتکاف بیٹھا ہے اور ساتھ ٹیلی ویژن بھی رکھا ہے، جس سے دل بہلاتا رہتا ہے، ٹیلی فون بھی ہے جس پر کاروباری باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔



خدا کے بندو ! یہ کیسا اعتکاف ہے، یہ تو خدا کی لعنت ہے، کم از کم کاروبار کے سلسلہ میں تو خاموش رہو اور کوئی ایسی بات نہ کرو، ٹیلی ویژن پر ڈرامے دیکھنا کہاں روا ہے؟ تجارتی امور کسی کارندے کے سپرد کردو، خود تو اعتکاف کا مقصد پورا کرو۔

ﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق عاقل، بالغ آدمی مسجد میں اعتکاف بیٹھے کیونکہ مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ اعتکاف بیٹھنے کا حکم نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ کسی جامع مسجد میں اعتکاف بیٹھے، جہاں پنجگانہ نمازوں کے علاوہ جمعہ کی نماز بھی ادا کر سکے، ہاں اگر کسی مجبوری کی بناء پر جامع مسجد میں بیٹھنا ممکن نہ ہو تو جمعہ کیلئے جامع مسجد میں جا کر جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے، ایسے آدمی کو نماز جمعہ ادا کر کے واپس اپنی اعتکاف والی مسجد میں آجانا چاہیے، ہاں اگر نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں تھوڑی دیر کیلئے بیٹھ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

عورتوں کا اعتکاف ان کے گھروں میں ہی ہو جاتا ہے، جو جگہ انہوں نے نماز کیلئے مخصوص کر رکھی ہے وہاں اعتکاف بیٹھ جائیں، غرضیکہ کوئی کمرہ یا خاص جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں سے بلا ضرورت شرعی باہر نکلنا روا نہیں ہے، حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ عورت کی نماز گھر میں افضل ہے، البتہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا صرف جائز ہے، افضل نہیں، لہٰذا عورتوں کا اعتکاف بھی ان کے گھر میں ہی ہو گا، اگر کسی مسجد میں مسجد نبوی کی طرح ایسا انتظام ہو کہ مردوں کے ساتھ اختلاط کا امکان نہ ہو اور عورتوں کی تمام ضروریات پوری ہو جاتی ہوں تو وہ مسجد میں بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں، تاہم عام طور پر ان کے لئے گھروں میں اعتکاف بیٹھنا ہی مناسب ہے۔

جس نے اعتکاف بیٹھنا ہو وہ بیس رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے پہلے مسجد میں آجائے اور پھر نو یا دس دن اعتکاف کرے، وہیں کھائے پئے اور سوئے اور سوائے لازمی ضروریات از قسم وضو، بول و براز وغیرہ کے مسجد سے باہر نہ نکلے۔



اسی آخری عشرہ میں اس کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر بھی آتی ہے، اس کی بھی بہت فضیلت آئی ہے، اس ایک رات کی عبادت باقی ایام کے ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے افضل ہے۔

یہ بھی ضروری ہے (لا اعتکاف الّا بصومٍ) یعنی اعتکاف کیلئے روزے دار ہونا بھی لازم ہے، روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا۔

چھوٹے بے شعور بچوں کو اعتکاف نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ انہیں نیکی کا کوئی دوسرا کام کرنا چاہیے، معتکف تو روحانیت حاصل کرنے کیلئے تمام جہاں سے کٹ کر ﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے اور بستر بھی وہیں بچھا لیتا ہے تاکہ اسے کسی طرح معافی مل جائے، لہٰذا یہ شعور والے بڑے لوگوں کا ہی حصہ ہے۔

اعتکاف کی حالت میں اگر بدخوابی ہو جائے تو معتکف غسل کرنے کیلئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے، ویسے گرمی یا سردی کی وجہ سے یا شوقیہ غسل کے لئے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، ہاں اگر مسجد کے اندر ہی غسل کرنے کا انتظام ہو تو خواہ معتکف دن میں دو دفعہ غسل کر لے، اس کی ممانعت نہیں ہے۔

معتکف کے لیے مسجد کے احاطہ سے تھوڑی دیر کے لیے بھی باہر نکلنا اعتکاف کو باطل کر دیتا ہے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ معتکف کے لیے یہ سنت ہے (اَلَّا تَعُوْدَ مَرِیْضًا) کہ وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے بھی مسجد سے باہر نہ جائے، البتہ عالمگیری اور دوسرے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ اگر آپ کے علم میں ہے کہ آپ کا کوئی عزیز یا دوست بیمار ہے تو اعتکاف بیٹھتے وقت نیت کر لیں کہ اگر ضروری ہوا تو دوران اعتکاف اس کی عیادت یا موت کی صورت میں اس کے جنازے میں شریک ہوں گا، تو حسب ضرورت اس بات کی اجازت ہوگی، یہ تھوڑی سی رعایت ہے۔



دوران اعتکاف معتکف عورت کے قریب بھی نہیں جا سکتا، ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وَلاَ تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِد۔البقرہ۔۱۸۷) جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔

اس دوران اپنے عزیز واقارب اور سارے مسلمانوں کیلئے دعا کرو کہ ﷲ تعالیٰ ساری امت پر رحم کرے جو گمراہیوں میں ڈوبی ہوئی ہے، فوت شدگان کیلئے ﷲ تعالیٰ سے بخشش ومغفرت طلب کرو اور یوں کہو اللھم ارحم علیٰ امۃ محمدؐ، اللھم اھد امۃ محمدؐ، اللھم اغفر لامۃ محمدؐ، اللھم اغفرلنا ولوالدین ولاساتذتنا وجمیع المؤمنین والمؤمنات۔

وہ لوگ سعادت مند ہیں جو اعتکاف کا مقصد سمجھ کر اعتکاف بیٹھتے ہیں،وہ یقینا روحانیت کا کچھ نہ کچھ حصہ حاصل کرلیتے ہیں، اُن کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے جس کا آخرت میں یقینا فائدہ ہوگا، انشاء ﷲ۔ (ماخوذ از خطبات سواتی)

افادات :مفسر قرآن محدث کبیر حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ

ترتیب : عرباض خان سواتی

No comments:

close