mout ki tayari - Roshan Worlds

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Tuesday, April 23, 2019

mout ki tayari




































موت کی تیاری قرآن کی روشنی میں 


(1) ارشاد رَبی ہے:
 …کل نفس ذائقۃ الموت …
ہرجاندار کو موت کا پیالہ پینا ہے۔۔۔۔۔ 
اسی بنا پر آنحضرت انے اپنی امت کو کثرت سے موت کو پیش نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔۔۔۔۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ا نے ارشاد فرمایا:
’’لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔۔۔۔۔ اس لئے کہ جو بھی اسے تنگی کے زمانہ میں یاد کرے گا تو اس پر وسعت ہوگی۔۔۔۔۔‘‘    ( رواہ البزار)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کی یاد ہر حال میں نفع بخش ہے۔۔۔۔۔ مصیبت کے وقت اس کو یاد کرنے سے ہر مصیبت آسان ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔ اسی لئے قرآن کریم میں صبر کرنے والوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا گیا :-
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں۔۔۔۔ ان ﷲ وان الیہ راجعون۔۔۔۔یعنی ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔۔۔۔۔‘‘
اسی طرح جب خوشحالی اور عافیت کے وقت موت کو یاد کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ تو اس کی وجہ سے آدمی بہت سے ان گناہوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ جن کا داعیہ عموماً خوشحالی کے زمانہ میں قوت کے ساتھ ابھرتا ہے۔۔۔۔۔ اسی لئے حدیث بالا میں موت کو لذت توڑنے والی چیز قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔
ایک حدیث میں ہے کہ آپ ا نے فرمایا :-
’’اگر جانوروں کو موت کے بارے میں اتنا معلوم ہوجائے جتنا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے تو کبھی کوئی موٹا جانور تم کو کھانے کو نہ ملے۔۔۔۔۔ (یعنی موت کے خوف سے سب کمزور ہوجائیں)‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ا نے فرمایا :
’’ جو شخص دن رات میں بیس مرتبہ موت کو یاد کرے۔۔۔۔۔ تو قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ اٹھے گا۔۔۔۔۔ ‘‘
جناب رسول اللہ ا  کا ایک دفعہ ایک مجلس پر گزر ہوا۔۔۔۔۔ جہاں سے لوگوں کے زور زور سے ہنسنے کی آواز آرہی تھی ۔۔۔۔۔ 
اس پر حضور ا نے فرمایا کہ: اپنی مجلسوں میں لذتوں کو توڑنے اور ختم کردینے والی چیز کا تذکرہ شامل کرلیا کرو۔۔۔۔۔ 
صحابہ نے عرض کیا کہ: یارسول اللہا  لذتوں کو توڑنے والی کیا چیز ہے؟۔۔۔ 
آپ انے فرمایا : موت!۔۔۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔۔۔۔۔ یہ گناہوں کو زائل کرتی ہے اوردنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے۔۔۔۔۔ 

موت کا وقت معین آنے پر کسی کو مہلت نہیں ملتی


(2) موت کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ولن یوخر اﷲ نفسا اذا جآء اجلھا واﷲ خبیر بما تعملون‘‘
’’اور اﷲ تعالیٰ کسی کو ہر گز مہلت نہیں دیتا جب اس کی میعاد مقرر (موت کی گھڑی) آجاتی ہے۔۔۔۔۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو اﷲ اس سے باخبر ہے۔۔۔۔‘‘
حکم ہورہا ہے کہ جب وقت موعود آجائے گا۔۔۔۔۔ تو تمام حسرت و تمنا دھری کی دھری رہ جائے گی۔۔۔۔۔ 
حضرت ابن عباس ص نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: کہ جس شخص کے ذمہ زکوٰۃ واجب تھی اور ادا نہیں کی۔۔۔۔ یا حج فرض تھا ادا نہیںکیا۔۔۔۔۔ وہ موت آجانے پر اﷲ تعالیٰ سے اس کی تمنا کرے گا کہ میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جاؤں۔۔۔۔۔ یعنی موت مؤخر ہوجائے اور مجھے کچھ مہلت مل جائے۔۔۔۔۔ تاکہ میں صدقہ و خیرات کرلوں اور فرائض سے سبکدوش ہوجاؤں۔۔۔۔۔
وہ مرنے کے وقت یہ بھی تمنا کرے گا کہ کچھ اور مہلت مل جائے۔۔۔۔۔ تاکہ میں ایسے نیک اعمال کرلوں جن کی وجہ سے صالحین میں داخل ہوجاؤں۔۔۔۔۔ اور جو فرائض و واجبات ادا نہ کرسکا ان کو ادا کرلوں۔۔۔۔۔ جن محرمات و مکروہات میں مبتلا رہا ہوں ان سے توبہ و استغفار کرکے سرخرو ہوجاؤں۔۔۔۔۔ حق تعالیٰ فرمائے گا کہ موت کے آجانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاسکتی ۔۔۔۔۔ اب یہ تمنائیں لغو اور فضول ہیں۔۔۔۔۔ 
امام رازی ؒ فرماتے ہیں:
’’ویعض انا ملہ علیٰ فقد ماکان صتمکنا بہ‘‘
’’پھر وہ اپنی انگلیوں کو کاٹ کاٹ کر کھائے گا۔۔۔۔۔ اس وقت کے گزرنے پر جس پر اسے اس سے قبل اختیار تھا ۔۔۔‘‘ (تفسیر کبیر ج۲۹۔ ۱۹)
کہاں سے آئے؟ کیوں آئے؟ 
کہاں جائیں گے؟ کیا ہوگا؟

(3) یہ ایک نہایت اہم اور مقدم سوال ہے جس کا جواب ہر بالغ ذی شعور کے ذہن میں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ جس شخص نے اس سوال پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ بے نصیب و بے شعور کون ہوگا؟
کیا تخلیق انسان کا مقصد صرف یہی ہے کہ کھایا۔۔۔۔۔ پیا اور سوگئے؟ او رکیا اس کے ذمہ یہی کام ہے کہ جائز و ناجائز طریقہ سے مال و دولت سمیٹتا رہے۔۔۔۔۔ کارخانے بڑھاتا رہے۔۔۔۔۔ کوٹھیاں۔۔۔۔۔ بنگلے تعمیر ہوتے رہیں۔۔۔۔۔ ہر لمحہ عیش و عشرت میں مدہوش رہے۔۔۔۔۔ اور اسی حال میں اچانک ایک دن موت اسے اچک لے۔۔۔۔۔ اور قبر میں داخل ہوجائے؟۔۔۔۔۔
’’افحسبتم انما خلقنٰکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون‘‘
’’کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ ہم نے تمہیں عبث (بے مقصد) پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس نہیں آؤ گے؟‘‘
نہیں نہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے بیکار بے فائدہ پیدا کیا گیا ہو۔۔۔۔۔ اس کے کچھ فرائض ہیں۔۔۔۔۔ اس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔۔۔۔۔ اس کی زندگی کا کچھ لائحہ عمل ہے۔۔۔۔۔ جو کہ قرآن کریم کی صورت میں اسے دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ 
اگر اس نے اپنے فرائض پورے نہ کئے۔۔۔۔۔ اوراپنی ذمہ داریوں کو نہ نبھایا۔۔۔۔ اور اپنی زندگی قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف بسر کی۔۔۔۔۔۔ تو یہ مسکین انسان اس قدر نقصان اٹھائے گا۔۔۔۔۔ کہ اس کی تلافی کی کوئی صورت نہ رہے گی۔۔۔۔۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب الیم میں گرفتار ہوجائے گا ’’اللھم احفظنا منہ‘‘
بڑا کمبخت ہے جس نے کبھی یہ نہیں سوچا
کہاں سے آئے کیوں آئے کہاں جائیں گے کیا ہوگا؟
حضرت عبداﷲ بن عباس ص کے نزدیک۔۔۔۔۔ ایک اور آیت اس سے بھی افضل ہے اور وہ یہ ہے :
’’وان ربک لذو مغفرۃ للناس علیٰ ظلمھم‘‘ (قرطبی)
’’بے شک آپ کا پروردگار لوگوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔۔۔‘‘
سورئہ انعام میں ارشاد ہے:
’’کتب ربکم علیٰ نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوء بجھالۃ ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیم‘‘
’’تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم کررکھی ہے ۔۔۔۔۔ بے شک تم میں سے جو کوئی نادانی سے بُرائی کر بیٹھے پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی حالت درست کرلے تو وہ (اﷲ) بڑا مغفرت والا بڑا رحمت والا ہے۔۔۔۔۔‘‘ (الانعام: ۵۴)
اس آیت میں بخشش و رحمت کے لئے ندامت و سچی توبہ کے ساتھ اصلاح احوال و اعمال شرط ہے۔۔۔۔۔ صرف زبان سے توبہ توبہ بجز اصلاح اعمال اﷲ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔۔۔ بلکہ اپنے پروردگار کے ساتھ مذاق ہے ۔۔۔۔۔ 
جیسا کہ حضرت ابن عباس ص سے مروی ہے:
’’المستغفر من الذنب وھو مقیم علیہ کالمستھزیٔ بربہ‘‘ 
           (الترغیب ج۴ ص۹۷)
گناہ سے توبہ کرنے والا اور گناہ پر اصرار کرنے والا اس شخص کی طرح ہے (جو نعوذ باﷲ) اپنے پروردگار سے مذاق کررہا ہو۔۔۔  (از مولانا عبدالرحمن عاجز)
گناہ سے کوئی انسان پاک و صاف نہیں
گناہ کوئی بھی لیکن تو بار بار نہ کر
پہلی زندگی دنیا کی اور دوسری قبر کی

(4) سورۃ المومن میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
’’ قالوا ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین فاعترفنا بذنوبنا فھل الیٰ خروج من سبیل‘‘ (المؤمن:۱۲)
اے رب ہمارے! تو موت دے چکا ہمیں دوبار اور زندگی دے چکا دو بار۔۔۔۔۔ اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے ۔۔۔۔۔ تو کیا اب بھی نکلنے کو کوئی راہ ہے۔۔۔۔۔ (تاکہ دنیا میں جا کر نیک اعمال بجا لائیں)
’’ان الامتۃ الاولیٰ فی الدنیا بعد الحیاۃ والثانیۃ فی القبر قبل البعث والاحیاء الآتی فی القبر للمسائلۃ والثانیۃ فی الحشر عن السدی وھو اختیار ابلخی ان الحیاۃ الاولیٰ فی الدنیا والثانیۃ فی القبر عن الجبائی‘‘
’’پہلی موت دنیا کی ہے زندگی کے بعد اور دوسری قبر میں قیامت سے قبل۔۔۔۔۔ قبر کی زندگی (منکر نکیر کے ) سوالات کیلئے ہے۔۔۔۔۔ دوسری زندگی حشر کی (حساب زندگی کیلئے) یہ قول حضرت سدی کا ہے اس کو ابلخی نے بھی اختیا رکیا ۔۔۔۔ پہلی زندگی دنیا کی ہے اور دوسری قبر کی ۔۔۔۔ یہ حضرت جبائی کا قول ہے۔۔۔‘‘        (مجمع البیان للطبرانی ج۸ص۵۱۶ حوالہ موت کے سائے)
موت کا وقت مقر رہے

(5) اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
’’ولکل امۃ اجل فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون‘‘
’’اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔۔۔۔۔‘‘
تفسیر صاوی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’لکل فرد من افراد الامۃ وقت معین‘‘
’’افراد امت میں سے ہر فرد کے لئے ایک وقت معین ہے۔۔۔۔۔‘‘
واضح ہوا کہ یہ کہنا فلاںشخص کو جلدی ہی موت نے پالیا۔۔۔۔۔ بے وقت موت آگئی۔۔۔۔۔ وقت سے پہلے موت آگئی۔۔۔۔۔ ابھی اس کے مرنے کا وقت تو نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور اس قسم کے تمام جملے جاہلانہ کلام ہے۔۔۔۔۔
موت کا ذکر قرآن حکیم نے مختلف انداز سے مختلف مقامات پر فرمایا ہے۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ حضرات کے سامنے موت کا ذکر اس ترتیب سے کروں جو آسانی سے آپ کو سمجھ آسکے۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ مجھے شرح صدر سے بیان کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔۔۔۔۔ 
موت بہر حال آنی ہے

(6) ایک اور جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم ثم تردون الیٰ عالم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون‘‘ 
’’فرما دیجئے جس موت سے تم فرار کرتے ہو۔۔۔۔۔ وہ کہیں ضرور ملے گی اور تمہیں اس کی طرف لوٹنا ہے۔۔۔۔۔ جو سب ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے اور تمہارے اعمال سے تمہیں متنبہ کرے گا۔۔۔۔۔‘‘    (سورہ جمعہ)
حضرات گرامی! موت آپ سے اجازت لے کر نہیں آئے گی۔۔۔۔۔ جس وقت موت کے آنے کا وقت آگیا وہ آجائے گی۔۔۔۔۔ نہ تو اسے بادشاہوں کے قلعے روک سکیں گے۔۔۔۔۔ اور نہ ہی بلند و بالا دیواریں اس کی راہ میں حائل ہوں گی۔۔۔۔۔ موت  آئے گی۔۔۔۔

موت کا ذائقہ


(7) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
’’کل نفس ذائقۃ الموت ط ثم الینا ترجعون‘‘  (سورئہ عنکبوت)
’’ہر جاندار کو ایک نہ ایک روز ضرور موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔۔۔ پھر تم سب کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔۔۔۔۔(اور دنیا میں کئے ہوئے اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے)‘‘
اب ذائقہ یا تو کڑوا ہوتا ہے یا میٹھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جس انسان نے اچھی زندگی گزاری ہوگی وہ جب موت کا پیالہ پئے گا تو اسے میٹھا ذائقہ محسوس ہوگا اور جس انسان نے غفلت کی زندگی گزاری ہوگی اس کے لئے وہ پیالہ اتنا کڑوا ہوگا کہ پینا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔ تاہم چارو ناچار اسے پینا ہوگا۔۔۔۔۔
دوستو! کبھی تم نے تنہائی و علیحدگی میں بیٹھ کر یہ بھی سوچا ہے کہ وہ دوست و یار جو پچھلے دنوں پچھلے ماہ و سال میں تمہارے ساتھ رہتے تھے۔۔۔۔۔ جن سے تمہاری مجلسیں قائم ہوتی اور سجتی تھیں۔۔۔۔۔ جن کے ساتھ رنگ رلیاں اور عیش و عشرت منائی جاتی تھیں۔۔۔۔۔ آج وہ سب کہاں گئے؟ 
جس طرح سے آج تم اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو۔۔۔۔۔ 
جس طرح سے آج تمہیں اپنے کام سے کسی وقت بھی کھانے کمانے اور دنیا طلبی سے فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔۔ کل وہ بھی اسی طرح اسی طرح اس دنیا میں مشغول رہتے تھے۔۔۔۔۔ 
جس طرح تمہیں صبح و شام ۔۔۔۔۔ دن رات یہی فکر اور یہی بیماری ہے کہ مل جائے پیسہ۔۔۔۔۔ خواہ ہو کیسا۔۔۔۔۔ 
اسی طرح سے ان مرنے والوں کا حال تھا۔۔۔۔۔ ان کو کسی وقت بھی تھوڑا بہت وقت نکال کر عبادت الٰہی کرنے اور اپنی دل جمعی کرنے کی فرصت نہ ملتی تھی اور نہ ہی مل سکی۔۔۔۔۔ نتیجہ یہ کہ اپنی انمول زندگی (جو کہ سرمایہ آخرت تھی) دنیا کے جال اور عیش میں پھنس کر اس کے سمیٹنے اور جمع کرنے پر قربان کردی۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ اس حالت میں موت نے انہیں آدبوچا۔۔۔۔۔ جب موت کے پنجے میں گرفتار ہوئے۔۔۔۔۔ تو سب آرزوئیں اور دل کے ارمان خاک میں مل گئے۔۔۔۔۔ اسی حالت میں کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر زمین کے نیچے جادبے۔۔۔۔۔
لہٰذا یہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے۔۔۔۔۔ جس نے یہاں خوشیوں کا گنج پایا۔۔۔۔۔ اسے موت کا رنج ضرور ملا۔۔۔۔ مگر افسوس ہے اس پر جو دنیا کی رنگینیوں میں یوں کھو جائے۔۔۔۔ کہ اپنی موت ہی سے غافل ہوجائے۔۔۔۔ افسوس! آج ہمیں موت یاد نہیں۔۔۔۔
اگر ہمیں موت یاد ہوتی۔۔۔۔ تو کیا ہم نماز سے جی چراتے؟ 
اگر ہمیں موت یاد ہوتی۔۔۔۔ تو کیا ہم فلموں ۔۔۔۔۔ ڈراموں میں وقت برباد کرتے؟ ۔۔۔۔۔
اگر ہمیں موت یاد ہوتی۔۔۔۔ تو کیا ہم گانے باجے سنتے؟ ۔۔۔۔۔
اگر ہمیں موت یاد ہوتی۔۔۔۔ تو کیا ہم تلاوت قرآن او راپنے پیارے نبی ا کے فرمان کو فراموش کرتے؟ ۔۔۔۔۔
اگر ہمیں موت یاد ہوتی۔۔۔۔ تو کیا ہم نیک اعمال سے دور ہوتے؟۔۔۔۔
آج گھر گھر میں بے سکونی ہے۔۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جانا۔۔۔۔۔ ہر بات پر اڑ جانا اور اپنی انا کا مسئلہ بنا لینا۔۔۔۔۔ دن رات دنیوی کاموں ہی میں مشغول رہنا ۔۔۔۔ سنتوں بھرے اجتماعات سے دور رہنا۔۔۔۔ صرف دنیاوی گھر ہی کو سجانے۔۔۔۔ سنوارنے میں لگے رہنا اورآخری گھر کی کوئی فکر نہ کرنا۔۔۔۔۔ موت سے غفلت کی نشانیاں ہیں۔۔۔۔۔ یقینا جو موت اور اس کے بعد والے معاملات سے آگاہ ہے۔۔۔۔ اسے دنیاوی آسائشوں اور راحتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
’’کل من علیھا فان ویبقیٰ وجھہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘
’’اے نبی! جتنی مخلوقات روئے زمین کی ہے۔۔۔۔۔ سب فنا ہونے کے لئے ہے اور باقی رہنے کے لئے صرف ایک تمہارے پروردگار کی ذات عالی ہے۔۔۔۔۔‘‘
خاتم الانبیاء جناب محمدرسول اﷲ ا نے ایک روز حضرت عبداﷲ ابن عمر ص کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ اور فرمایا: عبداﷲ خبردار ہوجاؤ اور دیکھو دنیا میں اس طرح رہو جیسے کہ کوئی مسافر رہتا ہے۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ جیسے کوئی مسافر رستہ چلتا ہوا رہتا ہے۔۔۔۔۔ اور اے ابن عمر! جب تم پر شام ہو تو صبح کا انتظار کرو۔۔۔۔۔ اور بیماری سے تندرستی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔ نیز مرنے سے جینے کو غنیمت سمجھو۔۔۔۔۔        (صحیح بخاری)
غنیمت سمجھ زندگی اسے فنا

کہ تیر قضا چل چکا چل چکا
ادھر سانس دن گن رہے ہیں تیرے

ادھر قبر منہ اپنا پھاڑے ہوئے
مسافر ہے ملک عدم کا بشر

اور اس پر تیرا حیف یہ کروفر
ذرا کوچ کا حال معلوم کر

کہ آخر کو ہوتا ہے زیرو زبر
وہ کیا شان ہوگی مسافر تیری
کڑی تجھ پہ جب آئے گی موت کی
انسان خوشی کے شادیانے بجارہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ تو ناگہاں لقمہ اجل بن جاتا ہے۔۔۔۔ ملک الموت سمن گرفتاری لے کر آجاتے ہیں۔۔۔۔ کبھی انسان کسی دوسرے انسان کی بیمارپرسی کے لئے جاتا ہے تو واپس اس کی نعش آتی ہے۔۔۔۔۔ غرض انسان کچھ سوچتا ہے ادھر تقدیر الٰہی میں فرشتوں کو اس کی روح قبض کرنے کیلئے حکم مل چکا ہوتا ہے۔۔۔۔ 
موت کی خوفناک گھڑی

(8) چنانچہ ارشاد بار تعالیٰ ہے:
’’اذا جاء اجلھا لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون‘‘
’’جب آپہنچے گا ان کا وعدہ(موت) پھر پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے۔۔۔۔۔‘‘
یعنی موت کا وقت مقرر ہے۔۔۔۔۔ کسی کو علم نہیں سوائے اﷲ تعالیٰ کے کہ کب موت کی گھڑی آپہنچے گی ۔۔۔۔۔ ایک لمحہ کی تاخیر و تقدیم نہ ہوگی۔۔۔۔۔ موت سے کسی کو مفر نہیں ۔۔۔۔۔ چاہے کوئی شاہ ہو یا گدا۔۔۔۔۔ غنی ہو یا فقیر۔۔۔۔۔ پہلوان ہو یا ناتواں۔۔۔۔۔ غرض ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔۔۔
مضبوط قلعہ بھی موت سے نہیں بچا سکتا

(9) لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اینما تکونوا یدرکم الموت ولوکنتم فی بروج مشیدہ‘‘
’’تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں پالے گی۔۔۔۔۔ اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ پناہ گزیں ہوجاؤ۔۔۔۔۔‘‘ (النسائ:۷۸)    
آتے رہتے ہیں پیش نظر دن رات جنازوں کے منظر
حیرت ہے کہ پھر کیوں اپنی اجل ہم دل سے بھلائے بیٹھے ہیں
یعنی کسی متنفس کو موت سے چھٹکارا نہیں ہے۔۔۔۔۔ قلعہ میں ہو یا جھونپڑی میں۔۔۔۔۔ خشکی میں ہو یا تری میں۔۔۔۔۔ سفر میں ہو یا حضر میں۔۔۔۔۔ امیر ہو یا غریب۔۔۔۔۔ بادشاہ ہو یا فقیر۔۔۔۔۔ کوئی بھی ہو۔۔۔۔۔ کسی جگہ بھی ہو۔۔۔۔۔ مقررہ وقت پر موت ضرور آئے گی۔۔۔۔۔ دنیا کی ہر چیز میں اختلاف تو ہے مگر مرنے میں سب کا اتفاق ہے۔۔۔۔۔ روزانہ اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔۔۔۔۔ قرآن و حدیث سے بھی یہی ثابت ہے۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
’’کل من علیھا فان‘‘ جتنے یہاں ہیں سب فانی ہیں۔۔۔۔۔
موت کے بعد زندگی کا ثبوت: قرآن کی نظر میں

(10) ایک جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’الذین کفروا لھم عذاب شدید والذین آمنوا وعملوا الصٰلحٰت لھم مغفرۃ واجر کبیرO افمن زین لہ سوٓء عملہ فراٰہ حسنا ط فان اﷲ یضل من یشاء و یھدی من یشاء فلا تذھب نفسک علیھم حسرت ط ان اﷲ علیم بمایصنعونO واﷲ الذیٓ ارسل الریٰح فتثیر سحابا فسقنٰہ الیٰ بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا ط کذالک النشورO‘‘
’’جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہےo کیا پس وہ شخص جس کے لئے اس کے برے اعمال زینت دئیے گئے ہیں اور وہ انہیں اچھے اعمال سمجھ رہا ہے یقین مانا کہ اﷲ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے۔۔۔۔۔ پس تجھے ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہئے۔ یہ جو کچھ کررہے ہیں اس سے یقینا اﷲ تعالیٰ بخوبی واقف ہےo اﷲ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔۔۔۔۔ پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔۔۔۔۔ اسی طرح دوبارہ جی اٹھنا بھی ہےo‘‘
امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ جیسے سورئہ حج وغیرہ میں ہے۔۔۔۔۔ بندوں کے لئے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے۔۔۔۔۔ کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے۔۔۔۔۔ کوئی تروتازگی اس میں نظر نہیں آتی۔۔۔۔۔ لیکن بادل اٹھتے ہیں۔۔۔۔۔ پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔۔۔۔۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھایا کوسوں تک ہریاول ہی ہریاول ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے۔۔۔۔۔ ایک سے ایک الگ ہوگا۔۔۔۔۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میںسے اگنے لگیں گے۔۔۔۔۔ جیسے زمین سے دانے اگ آتے ہیں۔۔۔۔۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے۔۔۔۔ ابن آدم تمام کا تمام گل سڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی نہیں سڑتی۔۔۔۔۔ اسی سے پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔ اور اسی ترکیب سے دیا  جائے گا۔۔۔۔         (بخاری کتاب التفسیر)
یہاں بھی نشان بتا کر فرمایا کہ اسی طرح موت کے بعد کی زیست ہے۔۔۔۔۔ سورئہ حج کی تفسیر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ۔۔۔۔
ابورزین ص نے رسول اﷲ ا سے پوچھا: حضورا  اﷲ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟۔۔۔۔ اور اس کی مخلوق میں اس بات کی کیا دلیل ہے؟ ۔۔۔۔
آپ ا نے فرمایا:
’’ اے ابو رزین! کیا تم اپنی بستی کے آس پاس کی زمین کے پاس سے اس حالت میں نہیں گزرے کہ وہ خشک بنجر پڑی ہوئی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ پھر دوبارہ تم گزرتے ہوتو دیکھتے ہو کہ وہ سبزہ زار بنی ہوئی ہے۔۔۔۔ اور تازگی کے ساتھ لہرا رہی ہے۔۔۔‘‘
ابو رزین نے جواب دیا: ’’ہاں! حضورا! یہ تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔۔۔ ‘‘
آپ ا نے فرمایا: بس اسی طرح اﷲ تعالیٰ مردوں کو زندہ کردے گا۔۔۔۔۔   (احمد حوالہ ابن کثیر)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ان اﷲ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اﷲ علیم خبیرO‘‘
’’قیامت کب آئے گی؟۔۔۔۔ بارش کس وقت ہوگی؟۔۔۔۔۔ ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوگا یا بچی؟۔۔۔۔۔ انسان اگلے دن میں کیا کرے گا؟۔۔۔۔ اور انسان کو کس جگہ پر موت آئے گی؟۔۔۔۔ ان پانچ چیزوں کا علم اﷲ رب العزت نے کسی کو نہیں دیا۔۔۔۔۔‘‘
حیات پر موت کی تقدیم کا راز

(11) حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر دامت برکاتہم نے ایک مجلس میں ارشاد فرمایا:۔۔۔۔ ۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:۔۔۔۔
’’الذی خلق الموت والحیوٰۃ ‘‘
’’وہ اﷲ جس نے موت کو پیدا کیا اور زندگی کو۔۔۔۔۔‘‘
شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوریؒ نے یہ آیت پڑھاتے ہوئے۔۔۔۔
فرمایا: اے اختر! بتاؤ موت پہلے آتی ہے یا زندگی؟ 
میںنے عرض کیا: کہ حضرت زندگی پہلے آتی ہے۔۔۔۔۔ 
فرمایا: کہ یہاں اﷲ تعالیٰ نے موت کو کیوں پہلے بیان کیا؟ آہ حضرت نے کیا جواب دیا سن لیجئے۔۔۔۔۔ 
فرمایا: کہ جس کی زندگی کے سامنے اپنی موت ہوگی اس کی زندگی اﷲ والی ہوجائے گی۔۔۔۔۔ وہ غفلت اور گناہ میں اپنی زندگی کو غارت نہیں کرے گا۔۔۔۔۔ جس زندگی کے سامنے اپنی روانگی اور اپنا وطن ہوگا۔۔۔۔۔ وہ پردیس کی رنگینیوں میں پھنس کر تعمیر وطن سے کبھی غافل نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے یہاں موت کو مقدم فرمایا:
’’لیبلوکم ایکم احسن عملا ‘‘
تاکہ اﷲ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔۔۔۔۔ دنیا عالم امتحان ہے۔۔۔۔۔ عالم بلا ہے۔۔۔۔۔ عالم ابتلاء ہے۔۔۔۔۔ اﷲ نے اس عالم امتحان میں ہمیں اس لئے نہیں بھیجا کہ یہاں سانڈ کی طرح رہو۔۔۔۔۔ سانڈ کا مزاج ہوتا ہے کہ ہر کھیت میں منہ ڈالتا ہے اور کھیت والوں کی لاٹھی کھاتا ہے۔۔۔۔۔ اﷲ نے فرمایا: ہم نے تم کو آزاد نہیں پیدا کیا۔۔۔۔۔ امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔۔۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔۔۔۔۔
امیہ بن خلف کے اعتراض پر اﷲ پاک کا جواب

(12) ایک روایت میں ہے کہ حضورا کی خدمت میں امیہ بن خلف آیا۔۔۔۔۔ یا عاص بن وائل آیا۔۔۔۔۔ یا ولید بن مغیرہ آیا۔۔۔۔۔ تین قول ہیں۔۔۔۔۔ ہاتھ میں پرانی ہڈی تھی۔۔۔۔۔ اس نے آپ ا  کو دکھائی۔۔۔۔۔پھر اسے مسلا۔۔۔۔۔ پھر ہوا میں اڑاد یا۔۔۔۔۔   کہنے لگا:۔۔۔۔
’’اتزعم ان ربک یحی ھذہ وھی رمیم‘‘
’’کیا کہتا ہے تو اے محمد(ا) تیرا رب اسے بھی زندہ کرے گا۔۔۔ حالانکہ یہ بکھر گئی ہے۔۔۔‘‘
اﷲ تعالیٰ نے جبرائیل کو اتارا۔۔۔
’’وضرب لنا مثلا و نسی خلقہ۔۔۔ قال من یحی العظام وھی رمیم۔۔۔قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ۔۔۔ وھو بکل خلق علیم۔۔۔‘‘
میرے ہاتھ سے پیدا ہوا مجھے مثالیں دیتا ہے اور کہتا ہے اس ہڈی کو کون زندہ کرے گا۔۔۔۔۔ اے میرے نبی! اسے کہو۔۔۔۔۔ تو وہ وقت یاد کر جب تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا۔۔۔۔ وہ دن یاد کر۔۔۔۔۔ جب تو کچھ بھی نہیں تھا اور میں نے تمہیں عدم سے وجود بخشا۔۔۔۔
من نطفہ۔۔۔۔ اس نطفے سے۔۔۔
من ماء مھین۔۔۔۔ ناپاک پانی سے۔۔۔
من نفطۃ امشاج۔۔۔۔ مرد عورت کے پانی سے۔۔۔
من سلالۃ من طین۔۔۔۔ کھنکتی ہوئی مٹی سے۔۔۔
جب میں نے تمہیں عدم سے وجود بخشا ۔۔۔۔۔ تو میں تیرے ذرات کو بھی جمع کرسکتا ہوں اور تجھے جمع کروں گا اور کھڑا کروں گا۔۔۔۔۔ 
حضور ا نے فرمایا: 
’’سن لے اے عاص! اﷲ اس ہڈی کو بھی جمع کرے گا۔۔۔۔ اور اسے بھی زندہ کرے گا۔۔۔۔ اور تجھے بھی زندہ کرے گا۔۔۔۔ اور تجھے جہنم کا عذاب چکھائے گا۔۔۔‘‘
اور ایک بات یاد رکھئے کہ موت کا علم کسی کو نہیں ہے کہ کب آئے گی۔۔۔۔۔ کتابوں میں ایک واقعہ لکھا ہے ۔۔۔۔۔
انسان کی زندگی ہوا میں رکھے ہوئے چراغ کی مانند ہے۔۔۔۔۔ بوڑھا آدمی اگر چراغ سحر ہے تو جوان آدمی چراغ شام ہے۔۔۔۔۔ جس طرح ہوا کے اندر رکھا ہوا چراغ ایک جھونکے کا محتاج ہوتاہے۔۔۔۔۔ ایسے ہی انسانی زندگی بھی ایک پل کی محتاج ہوتی ہے۔۔۔۔۔
زندگی کیا ہے ایک تھرکتا ہوا ننھا سا دیا
ایک ہی جھونکا جسے آکے بجھا دیتا ہے
یا سرمژگاں غم کا تھرکتا ہوا آنسو
پلک جھپکنا جسے مٹی میں ملا دیتا ہے
جس طرح پلک کا آنسو پلک جھپکتے ہی مٹی میں مل جاتا ہے۔۔۔۔۔ ایسے ہی انسان ایک لمحے میں اس جہان سے اگلے جہان کی طرف رخصت ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ مقصد زندگی اﷲ رب العزت کی بندگی۔۔۔۔۔ صحیح معنوں میںبندہ وہی ہوتا ہے جس میں بندگی ہو ورنہ سراسر گندہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جھوٹ اور فریب پلندہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جو بھی اس دنیا میں آیا اس کو بالآخر دنیا سے جانا ہے:
’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد‘‘ 
’’اے محبوب! ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی کے لئے یہاں ہمیشہ رہنا نہیں لکھا۔۔۔۔۔‘‘ (سورۃ الانبیائ:۳۴)
ہر انسان کو بالآخر یہاں سے جانا ہے۔۔۔۔۔ چند دنوں کی مہلت ہے جو ہمیں عطا کی گئی ہے ۔۔۔۔۔ اس میں ہمیں آخرت کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔۔۔ تو دنیا کی مختصر سی زندگی آخرت کی تیاری کے لئے عطا کی گئی ۔۔۔۔۔ 
اس لئے نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا:
’’کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل‘‘ (مشکوٰۃ)
’’تم دنیا میں ایسی زندگی گزارو جیسے کوئی پردیسی ہوتا ہے۔۔۔۔۔‘‘
پردیس میں انسان کو کتنی ہی سہولت کیوں نہ میسر ہو۔۔۔۔۔ اس کا دل اپنے بچوں کے لئے۔۔۔ اپنے والدین کے لئے۔۔۔۔ عزیز و اقارب کے لئے ہر وقت اداس رہتا ہے۔۔۔۔۔ سوچتا ہے کہ کب مجھے موقع ملے کہ میں وطن واپس چلا جاؤں۔۔۔۔۔
مومن کے لئے دنیا گزرگاہ ہے

(13) اسی طرح مومن کا اصلی وطن جنت ہے۔۔۔۔۔ دنیا اس کے لئے وطن اقامت کے مانند ہے۔۔۔۔۔ ہم تھوڑے دن کے لئے یہاں بھیجے گئے ۔۔۔۔۔ بالآخر زندگی گزار کر ہم نے اپنے وطن اور مستقر کی طرف لوٹ کر واپس جانا ہے۔۔۔۔۔ دنیا میں رہتے ہوئے ہم آخرت کی تیاری میں لگے رہیں۔۔۔۔۔ 
جس طرح مسافر اپنے سفر کے دوران تھوڑی دیر اپنے آرام کے لئے ٹھہرتا ہے۔۔۔۔۔ اس کے پیش نظر یہ بات ہوتی ہے کہ مجھے منزل پر پہنچنا ہے ۔۔۔۔۔ اسی طرح ہمارا سفر ’’کن‘‘ کے مقام سے شروع ہوا۔۔۔۔۔ عالم ارواح میں اﷲ رب العزت نے ہم سے وعدہ لیا:
’’الست بربکم‘‘        کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔۔۔۔۔ 
سب نے جواب دیا:
’’قالوا بلیٰ‘‘ کیوں نہیں۔۔۔۔۔
اور اس کے بعد پروردگار نے آزمائش کے لئے دنیا میںبھیجا۔۔۔۔ (از خطبات فقیر)

No comments:

close